سورہ Al-A'raf — آیت 85
اونچی جگہ · 7:85 · 85/206
وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۗ قَالَ يَـٰقَوْمِ ٱعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـٰهٍ غَيْرُهُۥ ۖ قَدْ جَآءَتْكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ فَأَوْفُوا۟ ٱلْكَيْلَ وَٱلْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا۟ ٱلنَّاسَ أَشْيَآءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَـٰحِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
Wa-ila madyana akhahumshuAAayban qala ya qawmi oAAbudoo Allaha malakum min ilahin ghayruhu qad jaatkum bayyinatunmin rabbikum faawfoo alkayla walmeezana walatabkhasoo annasa ashyaahum walatufsidoo fee al-ardi baAAda islahiha thalikumkhayrun lakum in kuntum mu'mineen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور مَدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ (تو) انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی آچکی ہے تو تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو۔ اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے
محمد جوناگڑھی
اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت دو اور روئے زمین میں، اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی، فساد مت پھیلاؤ، یہ تمہارے لئے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور مَدیَن والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی صاف رہنمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پُورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور قوم مدین کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی شعیب ؑ کو) اس ؑ نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اس کے سوا۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے کھلی دلیل آچکی ہے تو ماپ اور تول پورا کیا کرو اور لوگوں سے ان کی چیزیں کم نہ کیا کرو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مؤمن ہو۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا[1] ۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل آچکی ہے۔ پس تم ناپ اور تول پورا پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم کرکے مت[2] دو اور روئے زمین میں، اس کے بعد کہ اس کی درستی کردی گئی، فساد مت پھیلاؤ، یہ تمہارے لئے نافع ہے اگر تم تصدیق کرو۔
حواشی
[1] مدین حضرت ابراہیم (عليه السلام) کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا، پھر انہی کی نسل پر مبنی قبیلے کا نام بھی مدین اور جس بستی میں یہ رہائش پذیر تھے، اس کا نام بھی مدین پڑگیا ۔ یوں اس کا اطلاق قبیلے اور بستی دونوں پر ہوتا ہے ۔ یہ بستی حجاز کے راستے میں ”معان“ کے قریب ہے ۔ انہی کو قرآن میں دوسرے مقام پر أَصْحَابُ الأَيْكَة (بن کے رہنے والے) بھی کہا گیا ہے ۔ ان کی طرف حضرت شعیب (عليه السلام) نبی بنا کر بھیجے گئے۔ (دیکھئے الشعراء: 176 کا حاشیہ) ملحوظہ: ہر نبی کو اس قوم کا بھائی کہا گیا ہے، جس کا مطلب اسی قوم اور قبیلے کا فرد ہے، جس کو بعض جگہ رَسُولا مِنْهُم یا مِنْ أَنْفُسِهِمْ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے اور مطلب ان سب کا یہ ہے کہ رسول اور نبی انسانوں میں سے ہی ایک انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کی ہدایت کے لئے چن لیتا ہے اور وحی کے ذریعے سے اس پر اپنی کتاب اور احکام نازل فرماتا ہے ۔ [2] دعوت توحید کے بعد، اس قوم میں ناپ تول میں کمی کی جو بڑی خرابی تھی، اس سے اسے منع فرمایا اور پورا پورا ناپ اور تول کردینے کی تلقین کی ۔ یہ کوتاہی بھی بہت خطرناک ہے جس سے اس قوم کی اخلاقی پستی اور گراوٹ کا پتہ چلتا ہے جس کے اندر یہ ہو ۔ یہ بدترین خیانت ہے کہ پیسے پورے لئے جائیں اور چیز کم دی جائے ۔ اسی لئے سورۂ مطففین میں ایسے لوگوں کی ہلاکت کی خبر دی گئی ہے ۔