سورہ Al-A'raf — آیت 74
اونچی جگہ · 7:74 · 74/206
وَٱذْكُرُوٓا۟ إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنۢ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ ٱلْجِبَالَ بُيُوتًا ۖ فَٱذْكُرُوٓا۟ ءَالَآءَ ٱللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا۟ فِى ٱلْأَرْضِ مُفْسِدِينَ
Wathkuroo ithjaAAalakum khulafaa min baAAdi AAadin wabawwaakumfee al-ardi tattakhithoona min suhooliha qusooranwatanhitoona aljibala buyootan fathkurooalaa Allahi wala taAAthaw fee al-ardimufsideen
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
اور یاد تو کرو جب اس نے تم کو قوم عاد کے بعد سردار بنایا اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے (مٹی لے لے کر) محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو
محمد جوناگڑھی
اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عاد کے بعد جانشین بنایا اور تم کو زمین پر رہنے کا ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو، سو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
یا د کرو وہ وقت جب اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ آج تم اُس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو۔ پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجاوٴ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور یاد کرو جب اس نے تمہیں جانشین بنایا قوم عاد (کی تباہی) کے بعد اور تمہیں جگہ دی زمین میں تم اس کے نرم میدانوں میں محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش کر (بھی اپنے لیے) گھر بنالیتے ہو تو اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو اور مت پھرو زمین میں فساد مچاتے
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور تم یہ حالت یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو عاد کے بعد جانشین بنایا اور تم کو زمین پر رہنے کا ٹھکانا دیا کہ نرم زمین پر محل بناتے ہو[1] اور پہاڑوں کو تراش تراش کر ان میں گھر بناتے ہو[2]، سو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد مت پھیلاؤ۔[3]
حواشی
[1] اس کا مطلب ہے کہ نرم زمین سے مٹی لے لے کر اینٹیں تیار کرتے ہو اور ان اینٹوں سے محل، جیسے آج بھی بھٹوں پر اسی طرح مٹی سے اینٹیں تیار کی جاتی ہیں ۔ [2] یہ ان کی قوت، صلابت بدن اور مہارت فن کا اظہار ہے ۔ [3] یعنی ان نعمتوں پر اللہ کا شکر کرو اور اس کی اطاعت کا راستہ اختیا رکرو، نہ کہ کفران نعمت اور معصیت کا ارتکاب کر کے فساد پھیلاؤ ۔