سورہ Al-A'raf — آیت 71

اونچی جگہ · 7:71 · 71/206

قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ ۖ أَتُجَـٰدِلُونَنِى فِىٓ أَسْمَآءٍ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّا نَزَّلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَـٰنٍ ۚ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ

Qala qad waqaAAa AAalaykum minrabbikum rijsun waghadabun atujadiloonanee fee asma-insammaytumooha antum waabaokum manazzala Allahu biha min sultanin fantathirooinnee maAAakum mina almuntathireen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

ہود نے کہا تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا (نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے۔ کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

محمد جوناگڑھی

انہوں نے فرمایا کہ بس اب تم پر اللہ کی طرف سے عذاب اور غضب آیا ہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ٹھہرالیا ہے؟ ان کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اس نے کہا ”تمہارے ربّ کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹُوٹ پڑا۔ کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

(ہود ؑ نے) فرمایا تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور اس کا غضب واقع ہو ہی چکا ہے کیا تم مجھ سے جھگڑ رہے ہو ان ناموں کے بارے میں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے تھے اللہ نے اس کے لیے کوئی سند نہیں اتاری۔ تو (ٹھیک ہے) تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

انہوں نے فرمایا کہ بس اب تم پر اللہ کی طرف سے عذاب[1] اور غضب آیا ہی چاہتا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے باب میں جھگڑتے ہو[2] جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ٹھہرالیا ہے؟ ان کے معبود ہونے کی اللہ نے کوئی دلیل نہیں بھیجی۔ سو تم منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔

حواشی

[1] رِجْسٌ کے معنی تو پلیدی کے ہیں ۔ لیکن یہاں یہ مقلوب (بدلا ہوا) ہے رِجْزٌ سے ۔ جس کے معنی عذاب کے ہیں ۔ یا پھر رِجْسٌ یہاں ناراضی اور غضب کے معنی میں ہے۔ (ابن کثیر) [2] اس سے مراد وہ نام ہیں جو انہوں نے اپنے معبودوں کے رکھے ہوئے تھے، مثلاً صَدَا، صُمُودٌ، هَبَ ۔ وغیرہ جیسے قوم نوح کے پانچ بت تھے جن کے نام اللہ نےقرآن میں ذکر کئے ہیں جیسے مشرکین عرب کے بتوں کے نام تھے۔ لاتٌ، عُزَّى، مَنَاتٌ، هُبَلٌ وغیرہ یا جیسے آج کل کے مشرکانہ عقائد واعمال میں ملوث لوگوں نے نام رکھے ہوئے ہیں ۔ مثلاً داتا گنج بخش، خواجہ غریب نواز، بابا فرید گنج، مشکل کشا وغیرہ جن کے معبود یا مشکل کشا وگنج بخش وغیرہ ہونے کی کوئی دلیل ان لوگوں کے پاس نہیں ہے ۔