سورہ Al-A'raf — آیت 58
اونچی جگہ · 7:58 · 58/206
وَٱلْبَلَدُ ٱلطَّيِّبُ يَخْرُجُ نَبَاتُهُۥ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَٱلَّذِى خَبُثَ لَا يَخْرُجُ إِلَّا نَكِدًا ۚ كَذَٰلِكَ نُصَرِّفُ ٱلْـَٔايَـٰتِ لِقَوْمٍ يَشْكُرُونَ
Walbaladu attayyibuyakhruju nabatuhu bi-ithni rabbihi wallatheekhabutha la yakhruju illa nakidan kathalikanusarrifu al-ayati liqawmin yashkuroon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
جو زمین پاکیزہ (ہے) اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے (نفیس ہی) نکلتا ہے اور جو خراب ہے اس میں جو کچھ ہے ناقص ہوتا ہے۔ اسی طرح ہم آیتوں کو شکرگزار لوگوں کے لئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں
محمد جوناگڑھی
اور جو ستھری سرزمین ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس کی پیداوار بہت کم نکلتی ہے، اسی طرح ہم دﻻئل کو طرح طرح سے بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو شکر کرتے ہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے ربّ کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جوزمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور زرخیز زمین تو اپنے رب کے حکم سے اپنا سبزہ نکالتی ہے اور جو (زمین) خراب ہے وہ کچھ نہیں نکالتی مگر کوئی ناقص سی چیز اسی طرح ہم اپنی آیات کو گردش میں لاتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو (ان کی) قدر کرنے والے ہوں
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اور جو ستھری سرزمین ہوتی ہے اس کی پیداوار تو اللہ کے حکم سے خوب نکلتی ہے اور جو خراب ہے اس کی پیداوار بہت کم نکلتی ہے[1] ، اسی طرح ہم دﻻئل کو طرح طرح سے بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لئے جو شکر کرتے ہیں۔
حواشی
[1] علاوہ ازیں یہ تمثیل بھی ہوسکتی ہے ۔ ”الْبَلَدُ الطَّيِّبُ“ سے مراد سریع الفہم اور”الْبَلَدُ الخَبِيثُ“ سے کند ذہن، وعظ و نصیحت قبول کرنے والا دل اور اس کے برعکس دل ۔ قلب مومن یا قلب منافق یا پاکیزہ انسان اور ناپاک انسان ۔ مومن، پاکیزہ انسان اور وعظ ونصیحت قبول کرنے والا دل بارش کو قبول کرنے والی زمین کی طرح، آیات الٰہی کو سن کر ایمان وعمل صالح میں مزید پختہ ہوتا ہے اور دوسرا دل اس کے برعکس زمین شور کی طرح ہے جو بارش کا پانی قبول ہی نہیں کرتی یا کرتی ہے تو برائے نام جس سے پیداوار بھی نکمی اور برائے نام ہوتی ہے ۔ اسی کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ رسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) نے بیان فرمایا کہ ”مجھے اللہ تعالیٰ نے جو علم وہدایت دے کر بھیجا ہے، اس کی مثال اس موسلادھار بارش کی طرح ہے جو زمین پر برسی ۔ اس کے جو حصے زرخیز تھے، انہوں نے پانی کو اپنے اندر جذب کرکے چارہ اور گھاس خوب اگایا (یعنی بھرپور پیداوار دی) اور اس کے بعض حصے سخت تھے، جنہوں نے پانی کو تو روک لیا (اندر جذب نہیں ہوا) تاہم اس سے بھی لوگوں نے فائدہ اٹھایا، خود بھی پیا ۔ کھیتوں کو بھی سیراب کیا اور کاشت کاری کی اور زمین کا کچھ حصہ بالکل چٹیل تھا، جس نے پانی روکا اور نہ کچھ اگایا ۔ پس یہ اس شخص کی مثال ہے جس نے اللہ کی دین میں سمجھ حاصل کی اور اللہ نے مجھے جس چیز کے ساتھ بھیجا، اس سے اس نے نفع اٹھایا، پس خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھلایا اور مثال اس شخص کی بھی ہے جس نے کچھ نہیں سیکھا اور نہ وہ ہدایت ہی قبول کی جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا“۔ (صحيح بخاري ، كتاب العلم، باب فضل من علم وعلَّم)