سورہ Al-A'raf — آیت 38
اونچی جگہ · 7:38 · 38/206
قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَـٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ
Qala odkhuloo fee omamin qad khalatmin qablikum mina aljinni wal-insi fee annarikullama dakhalat ommatun laAAanat okhtaha hattaitha iddarakoo feeha jameeAAan qalatokhrahum li-oolahum rabbana haola-iadalloona faatihim AAathaban diAAfanmina annari qala likullin diAAfunwalakin la taAAlamoon
اس آیت کے تراجم 5
فتح محمد جالندھری
تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے
محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی، ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراه کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے، لیکن تم کو خبر نہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اللہ فرمائے گا جاوٴ،تم بھی اُسی جہنم میں چلے جاوٴ جس میں تم سے پہلے گُزرے ہوئے گروہِ جِن و انس جا چکے ہیں۔ ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتٰی کہ سب وہاں جمع ہو جائیں گےتو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ربّ، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا اِنہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔ جوام میں اِرشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا ہی عذاب ہےمگر تم جانتے نہیں ہو۔
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
کہا جائے گا اچھا شامل ہوجاؤ جنوں اور انسانوں کی ان امتوں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں آگ میں (داخل ہونے کے لیے) جب بھی کوئی امت (جہنم میں) داخل ہوگی تو وہ اپنے جیسی دوسری امت پر لعنت کرے گی) یہاں تک کہ جب اس میں گر چکیں گے سب کے سب تو ان کے پچھلے کہیں گے اپنے اگلوں کے بارے میں کہ اے ہمارے ربّ ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا تو ان کو تو دو گنا عذاب دے آگ میں سے اللہ فرمائے گا (تم) سب کے لیے ہی دو گنا (عذاب) ہے لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔
محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ
اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں[1] جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی، ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی[2] یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے[3] تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے[4] کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراه کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے[5]۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے[6]، لیکن تم کو خبر نہیں۔
حواشی
[1] ”أُمَم ٌ“ أمَّةٌ کی جمع ہے۔ مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفروشقاق اور شرک وتکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ ”فِي“ بمعنی ”مَعَ“ بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں، ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاوء یا ان میں شامل ہوجاؤ۔ [2] ”لَعَنَتْ أُخْتَهَا“ اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ أُخْتٌ بہن کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔ [3] ”ادَّارَكُوا“ کے معنی ہیں تَدَارَكُوا جب ایک دوسرے کو ملیں گے اور باہم اکٹھے ہوں گے۔ [4] ”أُخْرَىٰ“ (پچھلے) سے مراد بعد میں داخل ہونے والے اور اولیٰ (پہلے) سے مراد ان سے پہلے داخل ہونے والے ہیں۔ یا أُخْرَىٰ سےأَتْبَاعٌ ( پیروکار) اور أُولَى سے مَتْبُوعٌ لیڈر اور سردار ہیں۔ ان کا جرم چونکہ زیادہ شدید ہے کہ خود بھی راہ حق سے دور رہے اور دوسروں کو بھی کوشش کرکے اس سے دور رکھا، اس لئے یہ اپنے اتباع سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔ [5] جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ جہنمی کہیں گے «رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَ (1) رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ( الاحزاب: 67۔ 68) ”اے ہمارے رب! ہم تو اپنے سرداروں اور بڑوں کے پیچھے لگے رہے، پس انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کیا، یااللہ ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو بڑی لعنت کر“۔ [6] یعنی اب ایک دوسرے کو طعنے دینے، کوسنے اور ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔ اتباع اور متبوعین کا یہ مکالمہ سورۂ سبا: 31، 32 میں بھی بیان کیا گیا ہے۔