سورہ Al-A'raf — آیت 22
اونچی جگہ · 7:22 · 22/206
فَدَلَّىٰهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا ٱلشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْءَٰتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ ٱلْجَنَّةِ ۖ وَنَادَىٰهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا ٱلشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَآ إِنَّ ٱلشَّيْطَـٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ
Fadallahuma bighuroorin falammathaqa ashshajarata badat lahuma saw-atuhumawatafiqa yakhsifani AAalayhimamin waraqi aljannati wanadahuma rabbuhumaalam anhakuma AAan tilkuma ashshajaratiwaaqul lakuma inna ashshaytana lakumaAAaduwwun mubeen
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
محمد جوناگڑھی
سو ان دونوں کو فریب سے نیچے لے آیا پس ان دونوں نے جب درخت کو چکھا دونوں کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے روبرو بے پرده ہوگئیں اور دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے اور ان کے رب نے ان کو پکارا کیا میں تم دونوں کو اس درخت سے منع نہ کرچکا تھا اور یہ نہ کہہ چکا کہ شیطان تمہارا صریح دشمن ہے؟
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اس طرح دھو کا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا آخرکار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے تب ان کے رب نے انہیں پکارا، " کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے؟"
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
تو اس نے دھوکہ دے کر انہیں مائل کر ہی لیا تو جب ان دونوں نے چکھ لیا اس درخت کے پھل کو تو ظاہر ہوگئیں ان پر ان کی شرمگاہیں اور وہ لگے گانٹھنے جنت کے (درختوں کے) پتوں کو اپنے اوپر (لباس بنانے کے لیے) اور اب آواز دی ان دونوں کو ان کے رب نے کہ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا اس درخت سے اور کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔