سورہ Al-A'raf — آیت 169

اونچی جگہ · 7:169 · 169/206

فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا۟ ٱلْكِتَـٰبَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَـٰذَا ٱلْأَدْنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهُۥ يَأْخُذُوهُ ۚ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِم مِّيثَـٰقُ ٱلْكِتَـٰبِ أَن لَّا يَقُولُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ وَدَرَسُوا۟ مَا فِيهِ ۗ وَٱلدَّارُ ٱلْـَٔاخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

Fakhalafa min baAAdihim khalfun warithooalkitaba ya'khuthoona AAarada hathaal-adna wayaqooloona sayughfaru lana wa-in ya'tihimAAaradun mithluhu ya'khuthoohu alam yu'khathAAalayhim meethaqu alkitabi an la yaqoolooAAala Allahi illa alhaqqa wadarasoo mafeehi waddaru al-akhiratu khayrun lillatheenayattaqoona afala taAAqiloon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 4

فتح محمد جالندھری

پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں

محمد جوناگڑھی

پھر ان کے بعد ایسے لوگ ان کے جانشین ہوئے کہ کتاب کو ان سے حاصل کیا وه اس دنیائے فانی کا مال متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری ضرور مغفرت ہو جائے گی حاﻻنکہ اگر ان کے پاس ویسا ہی مال متاع آنے لگے تو اس کو بھی لے لیں گے۔ کیا ان سے اس کتاب کے اس مضمون کا عہد نہیں لیا گیا کہ اللہ کی طرف بجز حق بات کے اور کسی بات کی نسبت نہ کریں، اور انہوں نے اس کتاب میں جو کچھ تھا اس کو پڑھ لیا اور آخرت واﻻ گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ رکھتے ہیں، پھر کیا تم نہیں سمجھتے۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے نا خلف لوگ ان کے جا نشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دَنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کر دیا جائے گا، اور اگر وہی متاعِ دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اُسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہےکہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔ آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے؟

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

لیکن ان کے بعد ایسے (نا خلف) جانشین کتاب (تورات) کے وارث ہوگئے جو اس حقیر دنیا کے سازو سامان ہی کو حاصل کرتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ ہمیں تو بخش ہی دیا جائے گا اگر ایسا ہی اور سامان بھی ان کو دے دیا جائے تو (وہ بھی) لے لیں گے کیا ان سے عہد نہیں لیا گیا تھا کتاب (تورات) کی نسبت کہ نہیں منسوب کریں گے اللہ سے کوئی بات مگر حق اور انہوں نے پڑھ بھی لیا جو کچھ اس میں تھا اور یقیناً آخرت کا گھر تو بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟