سورہ Al-A'raf — آیت 156
اونچی جگہ · 7:156 · 156/206
۞ وَٱكْتُبْ لَنَا فِى هَـٰذِهِ ٱلدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِى ٱلْـَٔاخِرَةِ إِنَّا هُدْنَآ إِلَيْكَ ۚ قَالَ عَذَابِىٓ أُصِيبُ بِهِۦ مَنْ أَشَآءُ ۖ وَرَحْمَتِى وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ ۚ فَسَأَكْتُبُهَا لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَـٰتِنَا يُؤْمِنُونَ
Waktub lana fee hathihiaddunya hasanatan wafee al-akhiratiinna hudna ilayka qala AAathabee oseebubihi man ashao warahmatee wasiAAat kulla shay-infasaaktubuha lillatheena yattaqoona wayu'toona azzakatawallatheena hum bi-ayatinayu'minoon
اس آیت کے تراجم 4
فتح محمد جالندھری
اور ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰة دیتے اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں
محمد جوناگڑھی
اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا عذاب اسی پر واقع کرتا ہوں جس پر چاہتا ہوں اور میری رحمت تمام اشیا پر محیط ہے۔ تو وه رحمت ان لوگوں کے نام ضرور لکھوں گا جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور زکوٰة دیتے ہیں اور جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻتے ہیں۔
ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)
اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا۔“جواب میں ارشاد ہوا”سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے ، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰة دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے۔“
ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)
اور تو ہمارے لیے اس دنیا (کی زندگی) میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی ہم تیری جناب میں رجوع کرتے ہیں (اللہ نے) فرمایا کہ میں عذاب میں مبتلا کروں گا جس کو چاہوں گا اور میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے تو اسے میں لکھ دوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں گے زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو لوگ ہماری آیات پر پختہ ایمان رکھیں گے