سورہ Al-A'raf — آیت 115

اونچی جگہ · 7:115 · 115/206

قَالُوا۟ يَـٰمُوسَىٰٓ إِمَّآ أَن تُلْقِىَ وَإِمَّآ أَن نَّكُونَ نَحْنُ ٱلْمُلْقِينَ

Qaloo ya moosa immaan tulqiya wa-imma an nakoona nahnu almulqeen

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

(جب فریقین روزِ مقررہ پر جمع ہوئے تو) جادوگروں نے کہا کہ موسیٰ یا تو تم (جادو کی چیز) ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں

محمد جوناگڑھی

ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسیٰ! خواه آپ ڈالئے اور یا ہم ہی ڈالیں؟

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

پھر اُنہوں نے موسیٰؑ سے کہا "تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟"

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

) (جادوگر) کہنے لگے : اے موسیٰ ! اب تم پہلے ڈالو گے یا ہم ہوجائیں پہلے ڈالنے والے ؟

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

ان ساحروں نے عرض کیا کہ اے موسیٰ! خواه آپ ڈالئے اور یا ہم ہی ڈالیں؟[1]

حواشی

[1] جادوگروں نے یہ اختیار اپنے آپ پر مکمل اعتماد کرنے کی وجہ سے دیا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ ہمارے جادو کے مقابلے میں موسیٰ (عليه السلام) کا معجزہ، جسے وہ ایک کرتب ہی سمجھتے تھے، کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اور اگر موسی (عليه السلام) کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کا موقع دے بھی دیا تو اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، ہم اس کے کرتب کا توڑ بہر صورت مہّیا کرلیں گے ۔