سورہ Al-A'raf — آیت 100

اونچی جگہ · 7:100 · 100/206

أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ ٱلْأَرْضَ مِنۢ بَعْدِ أَهْلِهَآ أَن لَّوْ نَشَآءُ أَصَبْنَـٰهُم بِذُنُوبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ

Awa lam yahdi lillatheena yarithoonaal-arda min baAAdi ahliha an law nashao asabnahumbithunoobihim wanatbaAAu AAala quloobihimfahum la yasmaAAoon

آیت کی تلاوت

اس آیت کے تراجم 5

فتح محمد جالندھری

کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں

محمد جوناگڑھی

اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں، پس وه نہ سن سکیں۔

ابو الاعلیٰ مودودی (تفہیم القرآن)

اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہلِ زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر ِواقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟ ( مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے رہے) اور ہم ان کےدِلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سُنتے۔

ڈاکٹر اسرار احمد (بیان القرآن)

تو کیا ان لوگوں کو سبق نہیں ملا جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے پہلے رہنے والوں کے (ہلاک ہونے کے) بعد کہ ہم چاہیں تو ان کو بھی پکڑ لیں ان کے گناہوں کی پاداش میں ! اور ہم ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں پھر وہ کچھ سنتے ہی نہیں

محمد جوناگڑھی · دوسرا نسخہ

اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں، پس وه نہ سن سکیں۔[1]

حواشی

[1] یعنی گناہوں کے نتیجے میں عذاب ہی نہیں آتا، دلوں پر بھی قفل لگ جاتے ہیں، پھر بڑے بڑے عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر پاتے۔ دیگر بعض مقامات کی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کیا، ہم چاہیں تو تمہیں بھی تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کر دیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حق کی آواز کے لیے ان کے کان بند ہو جاتے ہیں ۔ پھر انذار اور وعظ ونصیحت ان کے لیے بیکار ہو جاتے ہیں ۔ آیت میں ہدایت تَبْيِينٌ (وضاحت) کے معنی میں ہے، اسی لیے لام کے ساتھ متعدی ہے۔ أَوَلَمْ يَهْدِ للَّذِينَ، یعنی کیا ان پر یہ بات واضح نہیں ہوئی۔